Breaking News

وزیراعظم عمران خان کا غربت کے خاتمے کیلئے قومی پالیسی لانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔                                   


   وزیراعظم عمران خان نے غربت کے خاتمے کے لیے قومی پالیسی لانے کا فیصلہ کرلیا۔ ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کردیا گیا، اس حوالے سے پچیس نومبر کو اہم اعلان کیا جائے گا                                        

عمران خان کی زیر صدارت لیگل ریفارمز کمیٹی کے اجلاس میں انہیں قانونی اصلاحات پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں وزیرقانون فروغ نسیم،معاون خصوصی شہزادارباب، پارلیمانی سیکرٹری ملائیکہ علی بخاری اور دیگر شریک ہوئے     

بریفنگ دیتے ہوئے وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم بتاکہ خواتین کے وراثتی حق کو یقین بنانے کے علاوہ  دیگر حقوق سے متعلق سے قوانین متعارف کرائے جا رہے ہیں ۔  سرکاری ملازمین کے لیے حصول انصاف کا  بھی آسان بنایا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ اداروں اورکمزور طبقوں کوانصاف کی فراہمی کیلئےریاست کیجانب قوانین متعارف کرائے جا رہے ہیں ۔اصلاحات کا مقصد موجودہ قوانین میں ترامیم اور نئے قوانین کا نفاذ ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ اورآسان انصاف کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔ انصاف کی فراہمی کا عمل وسائل پر نہیں بلکہ ریاست کے احساس ذمہ داری اور رحم سے وابستہ ہے۔ خواتین،بچوں اورگھریلو ملازمین کے حقوق کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں ۔
انہوں نے کہا کہ آسان، سہل اور جلد انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا تحریک انصاف کے منشور کا بنیادی جزو ہے۔ کمزور طبقوں کو انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
پارلیمانی سیکرٹری ملائیکہ علی بخاری نے بھی وزیر اعظم کو خواتین کے حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں اٹھائے جانے والے جامع اور مفصل قانونی اقدامات پر بریف کیا۔

وزیر اعظم کوقانونی اصلاحات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ کے اہم نکات

آسان، کم خرچ اور جلد انصاف کی فراہمی کے لیے ٹیکنالوجی سلو شنز کو متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ انصاف کی فراہمی میں عدالتوں کی معاونت کی جا سکے۔
ناداروں اور کمزور طبقوں کو انصاف کی فراہمی کے لیے ریاست کی جانب سے قانونی معاونت کی فراہمی کے لیے قوانین متعارف کرائے جا رہے ہیں۔
وراثت میں حق کے حصول سمیت خواتین کے دیگر حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے بھی خصوصی قوانین متعارف کرائے جا رہے ہیں۔
وسل بلوئر پروٹیکشن اینڈ ویجیلنس کمیشن تشکیل دیا جا رہا ہے جس کا مقصد کرپشن یا دیگر جرائم کی نشاندہی کرنے والوں کو نہ صرف تحفظ فراہم کرنا ہے بلکہ انہیں انعام سے نوازا جائے۔
سرکاری ملازمین کے سروس معاملات میں انصاف کے حصول کے عمل کو بھی آسان بنایا جا رہا ہے۔
بیرون ممالک سے دوطرفہ قانونی معاونت کے معاہدوں کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچانے کی غرض میوچل لیگل اسسٹنٹس بل متعارف کرایا جائے گا۔ یہ بل گذشتہ نو سال سے التوا کا شکار رہا ہے۔

           


No comments:

Post a Comment